ایران زیر زمین بنائے گئے جنگی طیاروں کے بیس کو دنیا کے سامنے لے آیا

ایران ( Iran ) کی جانب سے لڑاکا طیاروں کیلئے بنائے گئے زیر زمین اڈّے کا افتتاح بدھ 8 فروری کو کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی فوج نے بدھ کو لڑاکا طیاروں کیلئے بنائے گئے اپنے پہلے زیر زمین اڈے کا افتتاح کیا ہے جن کا مقصد طیاروں کو دشمن کے بم حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

ارنا نے لڑاکا طیاروں کیلئے پہلے زیر زمین اڈے کے بارے میں خبر کے ساتھ اس کی تصویریں اور ویڈیوز بھی جاری کیں ہیں جس میں بڑی سرنگ میں طیارے کھڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس زیر زمین اڈے کا نام عقاب 44 ہے اور اس میں ڈرونز سمیت ہر قسم کے لڑاکا اور بمبار طیاروں کو رکھنے کی سہولت موجود ہے۔

 

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری اور فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی ، نئے اڈے کا معائنہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہوائی اڈا کہاں واقع ہے۔ تاہم سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اسے پہاڑوں کے اندر سیکڑوں میٹر کی گہرائی میں تعمیر کیا گیا ہے اور یہ گہرائی ہدف بنانے والے بموں کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گزشتہ سال مئی میں ایران کی فوج نے ملک کے مغرب میں ایک فضائی اڈے کے بارے میں بتایا تھا۔ جو ڈرونز سے بچاؤ کے لیے کوہِ زاغروس سلسلے کے نیچے بنایا گیا ہے۔ نئے زیر زمین اڈے کی نقاب کشائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایک روز بعد ایرانی فضائیہ کا دن منایا جا رہا ہے۔ ترقی کا یہ عمل 1979کے اسلامی انقلاب کی 44 ویں سالگرہ کا حصہ ہے، جو ہفتے کے روز منائی جارہی ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ’’عقاب 44‘‘ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں میں بنائے گئے زیر زمین فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جو ملکی فضائیہ کے لیےجنگی حکمت عملی کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اس طرح کے لڑاکا طیارے بنا سکتا ہے جو امریکا اور اسرائیل نے اپنی حالیہ فوجی مشقوں میں استعمال کیے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت ایران کی موجودہ فضائیہ کے بیڑے میں زیادہ تر روسی ساختہ طیارے موجود ہیں، جس میں مگ اور سخوئی لڑاکا طیارے شامل ہیں جو سوویت دور کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ایف سیون اور کچھ چینی طیارے بھی ہیں۔

اسلامی انقلاب سے پہلے کے امریکی ایف فور اور ایف فائیوں لڑاکا طیاروں کو بھی اس کے بیڑے میں شامل کر لیا گیا تھا۔