نیب ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد کرپشن کے بند مقدمات بحال کر دیے گئے۔

پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس میں کی گئی ترامیم کے نتیجے میں بند کیے گئے مقدمات کو احتساب عدالتوں نے بحال کر دیا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ان ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے 15 ستمبر کو ان ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کو 7 روز میں مقدمات بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کی احتساب عدالتوں کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

نیب پراسیکیوشن نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 80 مقدمات کا ریکارڈ جمع کرادیا۔

واضح رہے کہ ترمیم شدہ قانون کے تحت نیب کے دائرہ اختیار میں کمی کے باعث احتساب عدالتوں کے 2 ججز کے تبادلے کیے گئے تھے۔

مقامی احتساب عدالت کو بھیجے گئے مقدمات میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین کیس، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف یونیورسل سروسز فنڈز کیس، قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور پراجیکٹس کیس شامل ہیں۔ ، دیگر مقدمات میں سابق چیئرپرسن فرزانہ راجہ کے خلاف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیس بھی شامل ہے۔

سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنسز، آصف زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیسز بھی بحال ہو گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ہدایت کی تھی کہ نیب اور دیگر تمام فورمز ایسے تمام کیسز کا ریکارڈ فوری طور پر سات دن کے اندر متعلقہ فورمز کو واپس بھجوائیں اور ان کیسز کو قانون کے مطابق اسی اسٹیج سے پراسیس کیا جائے جہاں انہیں بند کیا گیا تھا۔ تھا

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ نیب ترمیمی سیکشن 3 اور سیکشن 4 سے متعلق ترامیم کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، نیب قانون میں پبلک آفس ہولڈرز کے حوالے سے لگائی گئی حد اور 50 کروڑ کی حد کالعدم ہے۔ ہو گیا

فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال ہیں تاہم آمدن سے زائد اثاثوں میں ترمیم کو سرکاری افسران کی حد تک برقرار رکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پلی بارگین سے متعلق نیب ترمیم کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور ترامیم کی روشنی میں احتساب عدالتوں کے دیئے گئے احکامات کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھجوائے، اس کے ساتھ تمام انویسٹی گیشنز اور انکوائریاں بھی بحال کر دیں، جہاں سے روکا گیا تھا وہیں سے شروع ہو گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کرپشن اور بے ایمانی کی تعریف سے متعلق ترمیم اور پہلی ترمیم کے سیکشن 8 کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔