انتخابات کی ابتدائی حد بندی رواں ماہ مکمل ہونے کا امکان ہے جسے آئندہ عام انتخابات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز حلقہ بندیوں کی جاری مشق پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کو 26 ستمبر تک مثبت انداز میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کی، تاکہ اگلے روز ابتدائی حلقہ بندیوں کی فہرستیں شائع کی جاسکیں۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے 17 اگست کو جاری کردہ حلقہ بندیوں کے اصل شیڈول کے مطابق (مردم شماری کے نتائج کے نوٹیفکیشن کے 10 دن بعد) ابتدائی مشق 7 اکتوبر کو مکمل کی جانی ہے اور ابتدائی تجاویز 9 اکتوبر کو رپورٹ کے ساتھ شائع کی جائیں گی۔ جانی
یکم ستمبر کو الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے عمل کی مدت کو کم کر کے 14 دن کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ یہ عمل 14 دسمبر کے بجائے 30 نومبر کو مکمل کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع پہلے فروری کے وسط میں عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ظاہر کر رہے تھے لیکن اب اس پیش رفت کے بعد جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
نگرانی کا نظام
الیکشن کمیشن نے اگلے انتخابات میں استعمال کرنے کے لیے ایک نیا مانیٹرنگ کنٹرول سسٹم قائم کیا ہے جس سے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور مرتب کرنے کے طریقے کو بہتر بنانے کی امید ہے۔
عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ 2013 اور 2018 میں جس طرح سے چیزیں سامنے آئیں ان میں بڑا فرق تھا، ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (RTS) کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے سبق سیکھا گیا۔ میڈیا کو بتایا گیا کہ مانیٹرنگ افسران کو خلاف ورزی پر امیدواروں کو جرمانے اور نااہل قرار دینے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
گزشتہ روز نئے قائم ہونے والے الیکشن مانیٹرنگ کنٹرول سینٹر میں بریفنگ کے دوران الیکشن کمیشن کے سیکرٹری عمر حامد خان نے کہا کہ نیا نظام چیف الیکشن کمشنر کے وژن کے مطابق بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے اور بعد میں مانیٹرنگ کی جاتی ہے، سسٹم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ڈیٹا اینالسٹ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آف لائن سسٹم وہاں کام کرے گا جہاں آن لائن کنکشن دستیاب نہیں ہے اور دونوں کی عدم موجودگی میں ہارڈ کاپیوں پر نتائج موصول ہوں گے، اس بات کا وعدہ کرتے ہوئے کہ آئندہ عام انتخابات گزشتہ تمام انتخابات سے مختلف ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری آصف حسین نے کہا کہ الیکشن والے دن کئی جگہوں سے ڈیٹا آتا ہے، اس سسٹم کو فیڈ بیک دینے اور ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ کرنل سعد نے کہا کہ یہ سسٹم 24 گھنٹے کام کرے گا اور آن لائن مانیٹرنگ سینٹر کو صوبائی اور ضلعی سطح پر قائم کیے جانے والے تمام کنٹرول رومز سے منسلک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس سسٹم سے 200 مانیٹرز سے آن لائن رابطہ ممکن ہو سکے گا جبکہ ووٹر، امیدوار اور دیگر اپنی شکایات درج کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے علاوہ انتخابی مہم کو بھی مانیٹر کیا جائے گا، نئے رزلٹ کمپلیشن سسٹم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سسٹم انتخابات کو شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔