پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف سطح پر معاہدہ نہ ہوسکا
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اسٹاف لیول معاہدے کے بغیر ہی ختم ہوگئے
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے اسٹاف لیول معاہدے کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔ واشنگٹن سے منظوری کے بعد معاہدہ ہوگا۔
وفاقی سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کچھ نکات تصفیہ طلب ہیں، اب ان نکات پر فیصلہ واشنگٹن میں ہوگا۔
حامد یعقوب شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن نے اسٹاف لیول معاہدے کیلئے مزید وقت مانگا ہے، آئی ایم ایف نے غیر ملکی فنانسنگ کے لیے سفیروں سے ملاقات کرکے تصدیق بھی کرلی ہے۔
یاد رہے کہ معاہدے کی صورت میں پاکستان کو ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔ اگلی قسط کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔
آئی ایم ایف شرائط کے مطابق پاکستان کو بجلی، گیس کی قیمتوں اور پیٹرولیم پر ٹیکس بڑھانا ہوگا۔ توانائی شعبے میں گردشی قرضے میں کمی اور اصلاحات یقینی بنانا ہوں۔
آئی ایم ایف شرط کے مطابق پاکستان کو دوست ممالک سے 5 ارب ڈالرتک کے فنڈز کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نے آئی ایم ایف کیساتھ معاملات طے کرنے کی منظوری دیدی اور وزیرخزانہ کو معاملات طے کرنے کاٹاسک دے دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے ڈالر ذخائر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئے اور سرکاری خزانے میں اس وقت صرف 2ارب91 کروڑ ڈالر موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مجموعی ڈالر ذخائر کا حجم ساڑھے 8ارب ڈالر ہے۔ سرکاری ذخائر 2 ارب91 کروڑ اور بینکوں کے پاس5 ارب62 کروڑ ڈالر موجود ہیں۔