آئی ایم ایف کاوفد ایک ایک دھیلےکی سبسڈی دیکھ رہا ہے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آئی ایم ایف کا وفد ہر کتاب اور ایک ایک چیز دیکھ رہا ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ جاپان اور جرمنی دوسری جنگ عظیم میں تباہ و برباد ہوگئے مگر صرف 60 سال میں یہ دونوں قومیں دنیا پر چھا گئیں، یورپ میں جرمنی کا طوطی بولتا ہے یہ ان کی محنت کی وجہ سے ہے، جاپان اگر معاشی طاقت ہے تو ان کی محنت کی وجہ سے ہے، انہوں نے اپنی شکست کو محنت میں بدلا ، آج دنیا ان کے بغیر چل نہیں سکتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ سے لوگوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو 20 سال موخر کردیا جائے، اس سے بڑی سازش اور کیا ہوسکتی ہے؟، نا تو کوئی پاکستانی سیاستدان اور نا ہی کوئی فوجی اس طرح کی بات سوچ سکتا ہے،یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حکمت اور مشاورت سے کام لیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے تمام قوتیں استعمال کریں گے تو کشمیریوں کا حق ضرور دلوائیں گے لیکن اس کے لئے پہلے ہمیں معاشی اور سیاسی استحکام لانا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہماری طرف میلی آنکھ سے نہں دیکھ سکتا، پاکستان کے پاس ان کی میلی آنکھ نکال کر پاؤں تلے روندنے کی طاقت ہے، لیکن اگر کشمیر کو آزادی ملانی ہے تو اس طاقت کے ساتھ معاشی طاقت کو بھی ملانا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں قیادت کے لیے بنایا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت دیر ہوگئی لیکن آج بھی اگر ہم فیصلہ کرلیں کہ ہمیں کشمیر کو آزادی دلانی ہے تو کشمیریوں کو ان کا ضرور ملے گا۔

آئی ایم ایف اے مذاکرات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں آئی ایم ایف کا وفد ہر کتاب اور ایک ایک چیز دیکھ رہا ہے۔ ہمیں زندہ رہنا ہے لیکن جس طرح زندہ قومیں رہتی ہیں۔ بھیک یا کشکول آگے کرکے نہیں، 75 سال یہ معاملہ چلتا رہا، کہیں تو آپ اسے روکیں گے۔ یہ اسے وقت رکے گا جب پوری قوم ایک فیصلہ کرے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کشکول توڑنے کا کہنا بہت آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل، ہم تقاریر کرکے آدھے گھنٹے بعد بھول جاتے ہیں، اگر ہمارے قول و فعل میں تضاد ختم ہوجائے تو یہ کشتی کنارے لگ جائے گی۔