نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) ( PTI ) کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی ( Mohsin Naqvi ) کی تعیناتی کو عدالت عظمیٰ ( Supreme Court ) میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جمعہ 27 جنوری کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے تقرر کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔

تحریک انصاف کی جانب سے درخواست وکیل امتیاز رشید صدیقی نے دائر کی۔ مذکورہ درخواست میں محسن نقوی، چيف اليکشن کمشنر اور تمام ممبران کو فریق بنایا گیا ہے، جب کہ تحریک انصاف نے درخواست میں وفاق، اسپیکر قومی اسمبلی راجا ریاض ، چیف سیکریٹری پنجاب اور کے پی کو بھی فریق بنایا ہے۔

دائر درخواست میں پنجاب کابینہ تشکیل دینے اور تقرریوں تبادلوں سے بھی روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے تقرر میں الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

عدالت سے استدعا میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ شفاف اور منصفانہ الیکشن کیلئے اقدامات کے احکامات دے۔ وزیراعلیٰ کو انتخابات سے متعلق امور سرانجام دینے سے بھی روکا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل گرفتار پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کی تقرری کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کا محسن رضا نقوی کی نگراں وزیراعلیٰ تقرری پر کہنا تھا کہ حارث اسٹیل کیس میں 35 لاکھ روپے کی پلی بارگین کرنے والے سے کیسے انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے، میرا قریب ترین رشتے دار کیسے نگراں وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔ پرویزالٰہی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا متنازع فیصلہ ہر ضابطے کے خلاف ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہم سپریم کورٹ جارہے ہیں۔

مسرت جمشید کا کہنا تھا کہ متنازع شخص کی تعیناتی سوالیہ نشان ہے، ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

پنجاب اسمبلی

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے 11 جنوری کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگلے روز صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کردیے تھے اور سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی تھی۔

بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سمری پر دستخط نہیں کیے تھے اور یوں اسمبلی خودبخود تحلیل ہو گئی تھی۔